ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہندوستان پہنچنے والے کورونا کے ’مہلک ترین ویرینٹ‘ ایکس ای کی علامات کیا ہیں؟

ہندوستان پہنچنے والے کورونا کے ’مہلک ترین ویرینٹ‘ ایکس ای کی علامات کیا ہیں؟

Thu, 07 Apr 2022 14:55:04    S.O. News Service

نئی دہلی،7؍اپریل (ایس او نیوز؍ایجنسی)  کورونا کے نئے ویرینٹ ’ایکس ای‘ کا ظہور ہو چکا ہے اور اس کا پہلا معاملہ ہندوستان کے ممبئی شہر میں پایا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق ’ایکس ای‘ کورونا کے اومیکرون ویرینٹ کا ہی سب ویرینٹ ہے تاہم یہ اب تک پایا جانے والا کورونا کا مہلک ترین ویرینٹ ہو سکتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ اومیکرون کے سب ویرینٹ بی اے.2 کے مقابلہ ’ایکس ای‘ ویرینٹ 10 فیصد تک زیادہ متعدی معلوم ہو رہا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق فی الحال اومیکرون ویرینٹ کے حصہ کے طور پر ایکس ای میوٹیشن کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ اومیکرون کی علامات میں بخار، گلے میں خراش، سردی-کھانسی اور جلد میں جلن شامل ہیں۔

ایکس ای کا پہلا معاملہ برطانیہ میں 19 جنوری 2022 کو رپورٹ ہوا تھا اور اب تک اس کے تقریباً 637 معاملے درج کئے جا چکے ہیں۔ ہندوستان کے ممبئی شہر میں ایک 50 سالہ خاتون اس ویرینٹ سے متاثر پائی گئی ہے اور یہ خاتون حال ہی میں جنوبی افریقہ سے لوٹی ہے۔

برطانیہ کی ہیلتھ ایجنسی کورونا کی تین اقسام ایکس ڈی، ایکس ای اور ایکس ایف کا مطالبہ کر رہی ہے۔ ایکس ڈی بی اے.1 اومیکرون ویرینٹ کی ہی ایک ذیلی قسم ہے اور ایکس ایف ڈیلٹا اور بی اے.1 کے میل سے پیدا ہوا ہے۔ رپورٹ میں برطانیہ کی ہیلتھ سیکورٹی ایجنسی (یو کے ایچ ایس اے) کے چیف میڈیکل آفیسر سوسان ہاپکنس کے حوالہ سے کہا گیا ہے کہ اس طرح کے ویرینٹ کو ریکامبیننٹ (دوبارہ پیدا ہونے والا) کے طور پر جانا جاتا ہے اور عموماً یہ قدرے جلدی ختم ہو جاتے ہیں۔

ایکس ای ویرینٹ کے معاملے تھائی لینڈ اور نیوزی لینڈ میں بھی پائے گئے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اس کے میوٹیشن کے بارے میں مزید کچھ کہنے سے پہلے تحقیقی ڈیٹا درکار ہے۔ ادارہ کا مزید کہنا ہے کہ اس بات کے پختہ ثبوت موجود نہیں ہیں کہ ایکس ای کی علامات بہت زیادہ خطرناک ہیں اور تاحال اومیکرون ویرینٹ کے تمام ذیلی ویرینٹ سے متاثرہ مریضوں میں ہلکی علامات ظاہر ہوئی ہیں۔

 

کورونا کے ایک اور خطرناک ویرینٹ ’ایکس ای‘ کا ظہور، ہندوستان میں پایا گیا پہلا مریض

ممبئی،7؍اپریل (ایس او نیوز؍ایجنسی)  ملک میں کورونا کا نیا یرینٹ ’ایکس ای‘ (XE Variant) داخل ہو گیا ہے اور ممبئی میں سب سے پہلا معاملہ درج کیا گیا ہے۔ یہاں ایک 50 سالہ خاتون کورونا کے ایکس ای ویرینٹ سے متاثر پائی گئی ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ خاتون کورونا ویکسین کی دونوں خوراکیں لگوا چکی ہے، اس کے باوجود وہ متاثر ہو گئی۔

’آج تک‘ کی رپورٹ کے مطابق کورونا کے ایکس ای ورینٹ سے متاثر پائی گئی خاتون میں وبا کی علامات ظاہر نہیں ہو رہی ہیں۔ برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کی حالیہ سیرو سروے رپورٹ سے یہ معلومات منظر عام پر آئی۔

کورونا کے ایکس ای ویرینٹ سے متاثرہ پائی گئی خاتون پیشہ سے کاسٹیوم ڈیزائنر ہے اور وہ شوٹنگ کی ٹیم کا بھی حصہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق مذکورہ خاتون 10 فروری 2022 کو جنوبی افریقہ سے ہندوستان آئی تھی۔ اس سے پہلے اس کی سفر کے سفر سے متعلق کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔

خاتون نے کورونا ویکسین کی دونوں خوراکیں لگوا لی تھیں۔ وطن واپسی کے بعد اس کی کورونا کی جانچ رپورٹ نگیٹو پائی گئی تھی لیکن 2 مارچ کو معمول کی جانچ ہوئی تو وہ کورونا سے متاثر پائی گئی۔ خاتون کو اس کے بعد ہوٹل تاج کے ایک کمرے میں قرنطین کر دیا گیا۔ اگلے دن 3 مارچ کو جب اس کی پھر سے جانچ کی گئی تو اس کی رپورٹ پھر نگیٹو پائی گئی تھی۔

وہیں، ذرائع کے مطابق وزارت صحت نے ممبئی میں پائے گئے ویرینٹ کو ایکس ای ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انساکوگ کے جینومک ماہرین نے اپنی جان میں یہ پایا کہ یہ ویرینٹ ایکس ای ویرینٹ کی جینومک تصویر سے میل نہیں کھا رہا ہے۔


Share: